ایمان کی آواز میں
اداسی ، رنج ، اذیت ، خسارے آجائیں
کلام: کومل جوئیہ · محفل: جب یار نے اٹھا کر زلفوں کے بال باندھے محمد رفیع سودا · 2026-02-01
«اداسی ، رنج ، اذیت ، خسارے آجائیں» کومل جوئیہ کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «جب یار نے اٹھا کر زلفوں کے بال باندھے محمد رفیع سودا» میں 1 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 59 سیکنڈ ہے۔
اداسی ، رنج ، اذیت ، خسارے آجائیںہے جن سے گہرا تعلق وہ سارے آجائیں
تم اپنے اشک گراؤ مری ہتھیلی پرمبادا پاؤں کے نیچے یہ تارے آجائیں