ایمان کی آواز میں
زخم دل اور ہرا خون تمنا سے ہوا
کلام: مظفر وارثی · محفل: شوق جینے کا ہے مجھکو مگر اتنا بھی نہیں (مظفر وارثی) · 2025-12-18
«زخم دل اور ہرا خون تمنا سے ہوا» مظفر وارثی کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «شوق جینے کا ہے مجھکو مگر اتنا بھی نہیں (مظفر وارثی)» میں 18 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 7 سیکنڈ ہے۔
زخم دل اور ہرا خون تمنا سے ہواتشنگی کا مری آغاز ہی دریا سے ہوا
چبھ گئی حلق میں کانٹوں کی طرح پیاس مریدشت سیراب مرے آبلۂ پا سے ہوا