8 اشعار

زخم دل اور ہرا خون تمنا سے ہوا

Zakhm-e-dil aur hara khoon tamanna se hua

زخم دل اور ہرا خون تمنا سے ہوا

«زخم دل اور ہرا خون تمنا سے ہوا» مظفر وارثی کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «شوق جینے کا ہے مجھکو مگر اتنا بھی نہیں (مظفر وارثی)» میں 18 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 7 سیکنڈ ہے۔

زخم دل اور ہرا خون تمنا سے ہواتشنگی کا مری آغاز ہی دریا سے ہوا

چبھ گئی حلق میں کانٹوں کی طرح پیاس مریدشت سیراب مرے آبلۂ پا سے ہوا

دل زندہ کو چنا درد کی دیواروں میںروک لیتی مجھے اتنا بھی نہ دنیا سے ہوا

سر میں سودا تھا مگر پاؤں میں زنجیر نہ تھیخاک اڑاتا رہا منسوب نہ صحرا سے ہوا

پھیر دیں کس نے سلاخیں سی مری آنکھوں میںکون انگشت نما طاق تماشا سے ہوا

دور جا کر مری آواز سنی دنیا نےفن اجاگر مرا آئینۂ فردا سے ہوا

بو مزاجوں سے گئی رنگ اڑے چہروں کےخوش یہاں کون مرے دیدۂ بینا سے ہوا

اجنبی سا نظر آیا ہوں مظفرؔ خود کوبے تکلف جو میں اس عہد شناسا سے ہوا

— مظفر وارثی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں