چہرے جدید جسم پرانے لگے مجھے
کلام: مظفر وارثی
چہرے جدید جسم پرانے لگے مجھےاک موڑ پر تمام زمانے لگے مجھے
تنہا میں جل رہا تھا تو خوش ہو رہے تھے لوگان تک گئی جو آگ، بجھانے لگےمجھے
شوق جینے کا ہے مجھکو مگر اتنا بھی نہیں (مظفر وارثی)
مہمان شاعر: مظفر وارثی
چہرے جدید جسم پرانے لگے مجھےاک موڑ پر تمام زمانے لگے مجھے
تنہا میں جل رہا تھا تو خوش ہو رہے تھے لوگان تک گئی جو آگ، بجھانے لگےمجھے
زخم دل اور ہرا خون تمنا سے ہواتشنگی کا مری آغاز ہی دریا سے ہوا
چبھ گئی حلق میں کانٹوں کی طرح پیاس مریدشت سیراب مرے آبلۂ پا سے ہوا