ایمان کی آواز میں
ذہن ہو تنگ تو پھر شوخئ افکار نہ رکھ
کلام: عرفان صدیقی · محفل: دے لے ساقی ہم کو مے یہ ابر باراں پھر کہاںانعام اللہ یقین · 2026-02-04
«ذہن ہو تنگ تو پھر شوخئ افکار نہ رکھ» عرفان صدیقی کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «دے لے ساقی ہم کو مے یہ ابر باراں پھر کہاںانعام اللہ یقین» میں 4 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 55 سیکنڈ ہے۔
ذہن ہو تنگ تو پھر شوخئ افکار نہ رکھبند تہہ خانوں میں یہ دولت بیدار نہ رکھ
زخم کھانا ہی جو ٹھہرا تو بدن تیرا ہےخوف کا نام مگر لذت آزار نہ رکھ