ملک افراسیاب کی آواز میں
نگاہوں میں یہ کیا فرما گئی ہو
کلام: ضیاء جالندھری · محفل: تمہاری چاہت کی چاندنی سے ہر اک شب غم سنور گئی ضیا جالندھری · 2026-11-06
نگاہوں میں یہ کیا فرما گئی ہومری سانسوں کے تار الجھا گئی ہو
در و دیوار میں ہے اجنبیتمیں خود بھی کھو گیا تم کیا گئی ہو