غزل 6 اشعار

نگاہوں میں یہ کیا فرما گئی ہو

Nigahon mein ye kya farma gai ho

نگاہوں میں یہ کیا فرما گئی ہومری سانسوں کے تار الجھا گئی ہو

در و دیوار میں ہے اجنبیتمیں خود بھی کھو گیا تم کیا گئی ہو

پریشاں ہو گئے تعبیر سے خوابکہ جیسے کچھ بدل کر آ گئی ہو

تمنا انتظار دوست کے بعدکلی جیسے کوئی مرجھا گئی ہو

یہ آنسو یہ پشیمانی کا اظہارمجھے اک بار پھر بہکا گئی ہو

ضیاؔ وہ زندگی کیا زندگی ہےجسے خود موت بھی ٹھکرا گئی ہو

— ضیاء جالندھری

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں