اب کہاں باقی رہا نور میں بھیگا ہوا تو
کلام: راکب مختار
اب کہاں باقی رہا نور میں بھیگا ہوا توہائے افسوس کئی ہاتھوں سے میلا ہوا تو
ایک چھالے میں سمیٹوں تجھے رسوا کر دوںدشت اترا نہ مرے سامنے پھیلا ہوا تو
حکم مرشد پر جینا ہے، مر جانا ہے راکب مختار
مہمان شاعر: راکب مختار
اب کہاں باقی رہا نور میں بھیگا ہوا توہائے افسوس کئی ہاتھوں سے میلا ہوا تو
ایک چھالے میں سمیٹوں تجھے رسوا کر دوںدشت اترا نہ مرے سامنے پھیلا ہوا تو