7 اشعار

اب کہاں باقی رہا نور میں بھیگا ہوا تو

Ab kahan baqi raha noor mein bheega hua tu

اب کہاں باقی رہا نور میں بھیگا ہوا تو

«اب کہاں باقی رہا نور میں بھیگا ہوا تو» راکب مختار کا کلام ہے، جسے نایاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «حکم مرشد پر جینا ہے، مر جانا ہے راکب مختار» میں 21 اپریل 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 8 سیکنڈ ہے۔

اب کہاں باقی رہا نور میں بھیگا ہوا توہائے افسوس کئی ہاتھوں سے میلا ہوا تو

ایک چھالے میں سمیٹوں تجھے رسوا کر دوںدشت اترا نہ مرے سامنے پھیلا ہوا تو

موت سے قبل یہ احساس سکوں دے گا مجھےتیرا دیکھا ہوا میں ہوں میرا دیکھا ہوا تو

ہاتھ در ہاتھ کئی ہاتھ جھٹکتا ہوا میںلوگ در لوگ بھرے شہر سے ملتا ہوا تو

پتیاں پھول کی مٹی سے اٹھائیں تو مجھےیاد آیا مری آغوش میں بکھرا ہوا تو

آنکھ کھلتے ہی مرے ہاتھ سے چھن جاتا ہےحالت_نیند میں اک خواب سے مانگا ہوا تو

اس قدر اونچی ہے سینے کے مدینے کی فصیلجس سے ٹکرا کے پلٹ آئے گا بھاگا ہوا تو

— راکب مختار

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں