نایاب کی آواز میں
ہر ذرۂ امید سے خوشبو نکل آئے
کلام: نوشی گیلانی · محفل: اک شخص کتابوں جیسا تھا وہ شخص زبانی یاد ہوا(نوشی گیلانی) · 2025-12-25
«ہر ذرۂ امید سے خوشبو نکل آئے» نوشی گیلانی کا کلام ہے، جسے نایاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اک شخص کتابوں جیسا تھا وہ شخص زبانی یاد ہوا(نوشی گیلانی)» میں 25 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 39 سیکنڈ ہے۔
ہر ذرۂ امید سے خوشبو نکل آئےتنہائی کے صحرا میں اگر تو نکل آئے
کیسا لگے اس پار اگر موسم گل میںتتلی کا بدن اوڑھ کے جگنو نکل آئے