5 اشعار

ہر ذرۂ امید سے خوشبو نکل آئے

Har zarra-e-ummeed se khushboo nikal aaye

ہر ذرۂ امید سے خوشبو نکل آئے

«ہر ذرۂ امید سے خوشبو نکل آئے» نوشی گیلانی کا کلام ہے، جسے نایاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اک شخص کتابوں جیسا تھا وہ شخص زبانی یاد ہوا(نوشی گیلانی)» میں 25 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 39 سیکنڈ ہے۔

ہر ذرۂ امید سے خوشبو نکل آئےتنہائی کے صحرا میں اگر تو نکل آئے

کیسا لگے اس پار اگر موسم گل میںتتلی کا بدن اوڑھ کے جگنو نکل آئے

پھر دن تری یادوں کی منڈیروں پہ گزاراپھر شام ہوئی آنکھ میں آنسو نکل آئے

بے چین کیے رہتا ہے دھڑکا یہی جی کوتجھ میں نہ زمانے کی کوئی خو نکل آئے

پھر دل نے کیا ترک تعلق کا ارادہپھر تجھ سے ملاقات کے پہلو نکل آئے

— نوشی گیلانی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں