نایاب کی آواز میں
منظر سمیٹے، خواب سنبھالے، نمی بھری
کلام: سعید شارق · محفل: دل میں اُترے نہ اُداسی سے بھری کہلائے سعید شارق · 2026-02-05
«منظر سمیٹے، خواب سنبھالے، نمی بھری» سعید شارق کا کلام ہے، جسے نایاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «دل میں اُترے نہ اُداسی سے بھری کہلائے سعید شارق» میں 5 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 11 سیکنڈ ہے۔
منظر سمیٹے، خواب سنبھالے، نمی بھریزنبیلِ چشم یوں بھی تو بھرنا ہی تھی، بھری
تنہائی کے سفر پہ نکلنے سے پیشتربکسے میں اپنی اور تمھاری کمی بھری