منظر سمیٹے، خواب سنبھالے، نمی بھری
کلام: سعید شارق
منظر سمیٹے، خواب سنبھالے، نمی بھریزنبیلِ چشم یوں بھی تو بھرنا ہی تھی، بھری
تنہائی کے سفر پہ نکلنے سے پیشتربکسے میں اپنی اور تمھاری کمی بھری
دل میں اُترے نہ اُداسی سے بھری کہلائے سعید شارق
مہمان شاعر: سعید شارق
منظر سمیٹے، خواب سنبھالے، نمی بھریزنبیلِ چشم یوں بھی تو بھرنا ہی تھی، بھری
تنہائی کے سفر پہ نکلنے سے پیشتربکسے میں اپنی اور تمھاری کمی بھری
کہتا ہے کوئی ہو کے بہَم: ایک قدَم اور!بَس ایک قدَم! ایک قدَم! ایک قدَم اور!
اب کیسے بتاؤں! وہ سفَر کیسا سفَر تھا!رکھّا تھا سَرِ دشتِ عدَم، ایک قدَم، اور۔۔۔