نایاب کی آواز میں
رُکتا بھی نہیں ٹھیک سے ، چلتا بھی نہیں ھے
کلام: نوشی گیلانی · محفل: اک شخص کتابوں جیسا تھا وہ شخص زبانی یاد ہوا(نوشی گیلانی) · 2025-12-25
«رُکتا بھی نہیں ٹھیک سے ، چلتا بھی نہیں ھے» نوشی گیلانی کا کلام ہے، جسے نایاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اک شخص کتابوں جیسا تھا وہ شخص زبانی یاد ہوا(نوشی گیلانی)» میں 25 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 40 سیکنڈ ہے۔
رُکتا بھی نہیں ٹھیک سے ، چلتا بھی نہیں ھےیہ دل کہ تیرے بعد ، سنبھلتا بھی نہیں ھے
اک عمر سے ھم اُس کی تمنا میں ھیں بے خوابوہ چاند جو آنگن میں ، اُترتا بھی نہیں ھے