5 اشعار

رُکتا بھی نہیں ٹھیک سے ، چلتا بھی نہیں ھے

Rukta bhi nahin theek se, chalta bhi nahin hai

رُکتا بھی نہیں ٹھیک سے ، چلتا بھی نہیں ھے

«رُکتا بھی نہیں ٹھیک سے ، چلتا بھی نہیں ھے» نوشی گیلانی کا کلام ہے، جسے نایاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اک شخص کتابوں جیسا تھا وہ شخص زبانی یاد ہوا(نوشی گیلانی)» میں 25 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 40 سیکنڈ ہے۔ یہ کلام سحرِ بیاں کی محفلوں میں 2 مرتبہ پیش کیا جا چکا ہے۔

رُکتا بھی نہیں ٹھیک سے ، چلتا بھی نہیں ھےیہ دل کہ تیرے بعد ، سنبھلتا بھی نہیں ھے

اک عمر سے ھم اُس کی تمنا میں ھیں بے خوابوہ چاند جو آنگن میں ، اُترتا بھی نہیں ھے

پھر دل میں تیری یاد کے ، منظر ھیں فروزاںایسے میں کوئی ، دیکھنے والا بھی نہیں ھے

ھمراہ بھی خواھش سے ، نہیں رھتا ھمارےاور بامِ رفاقت سے ، اُترتا بھی نہیں ھے

اِس عمر کے صحرا سے ، تری یاد کا بادلٹلتا بھی نہیں ، اور برستا بھی نہیں ھے

— نوشی گیلانی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں