5 اشعار

اب دو عالم سے صدائے ساز آتی ہے مجھے

Ab do aalam se sada-e-saaz aati hai mujhe

اب دو عالم سے صدائے ساز آتی ہے مجھے

«اب دو عالم سے صدائے ساز آتی ہے مجھے» عبدالحمیدعدم کا کلام ہے، جسے نایاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «زندگی ہے دوسروں کے حکم پر مرنے کا جشن (عبدالحمید عدم)» میں 23 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 39 سیکنڈ ہے۔

اب دو عالم سے صدائے ساز آتی ہے مجھےدل کی آہٹ سے تری آواز آتی ہے مجھے

جھاڑ کر گرد غم ہستی کو اڑ جاؤں گا میںبے خبر ایسی بھی اک پرواز آتی ہے مجھے

یا سماعت کا بھرم ہے یا کسی نغمے کی گونجایک پہچانی ہوئی آواز آتی ہے مجھے

کس نے کھولا ہے ہوا میں گیسوؤں کو ناز سےنرم رو برسات کی آواز آتی ہے مجھے

اس کی نازک انگلیوں کو دیکھ کر اکثر عدمؔایک ہلکی سی صدائے ساز آتی ہے مجھے

— عبدالحمیدعدم

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں