7 اشعار

ایسا نیازِ عشق نے سادہ بنا دیا

Aisa niaz-e-ishq ne saada bana diya

ایسا نیازِ عشق نے سادہ بنا دیا

«ایسا نیازِ عشق نے سادہ بنا دیا» عبدالحمیدعدم کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «زندگی ہے دوسروں کے حکم پر مرنے کا جشن (عبدالحمید عدم)» میں 23 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ ہے۔

ایسا نیازِ عشق نے سادہ بنا دیاہم اس کے ہو گئے ہمیں جسکا بنا دیا

تقدیر نے، فلک نے،محبت نے عشق نےجس نے بھی چاہا میرا تماشہ بنا دیا

ویرانیاں سمیٹ کر سارے جہان کیجب کچھ نہ بن سکا تو میرا دل بنا دیا

اب تم مرے بنو نہ بنو تم کو ہے اختیارتقدیر نے تو مجھ کو تماشہ بنا دیا

ہوتا خدا کا عشق تو بن جاتا اور کچھبندے کے عشق نے مجھے بندہ بنا دیا

دنیا تیرے وجود کو کرتی رہی تلاشہم نے تیرے خیال کو یزداں بنا دیا

سرمہ سمجھ کہ آنکھ میں دی غیر کو جگہآنسو سمجھ کہ آنکھ سے ہم کو گرا دیا

— عبدالحمیدعدم

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں