اِس کو کہتے ھیں اچانک ھوش میں آنے کا نام
کلام: عبدالحمیدعدم
اِس کو کہتے ھیں اچانک ھوش میں آنے کا نامرکھ دیا دانِشکَدہ، رِندوں نے مَیخانے کا نام
حُور ھے، رعنائیِ نسواں کا اک نقلی لِباسخُلد ھے، زاھِد کے دانِستَہ بہک جانے کا نام
زندگی ہے دوسروں کے حکم پر مرنے کا جشن (عبدالحمید عدم)
مہمان شاعر: عبدالحمیدعدم
اِس کو کہتے ھیں اچانک ھوش میں آنے کا نامرکھ دیا دانِشکَدہ، رِندوں نے مَیخانے کا نام
حُور ھے، رعنائیِ نسواں کا اک نقلی لِباسخُلد ھے، زاھِد کے دانِستَہ بہک جانے کا نام
ایسا نیازِ عشق نے سادہ بنا دیاہم اس کے ہو گئے ہمیں جسکا بنا دیا
تقدیر نے، فلک نے،محبت نے عشق نےجس نے بھی چاہا میرا تماشہ بنا دیا
کشتی چلا رہا ہے مگر کس ادا کے ساتھہم بھی نہ ڈوب جائیں کہیں نا خدا کے ساتھ
دل کی طلب پڑی ہے تو آیا ہے یاد ابوہ تو چلا گیا تھا کسی دل ربا کے ساتھ