6 اشعار

جو لوگ جان بوجھ کے نادان بن گئے

Jo log jaan boojh ke nadaan ban gaye

جو لوگ جان بوجھ کے نادان بن گئے

«جو لوگ جان بوجھ کے نادان بن گئے» عبدالحمیدعدم کا کلام ہے، جسے واجد علی نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «زندگی ہے دوسروں کے حکم پر مرنے کا جشن (عبدالحمید عدم)» میں 23 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 52 سیکنڈ ہے۔ یہ کلام سحرِ بیاں کی محفلوں میں 2 مرتبہ پیش کیا جا چکا ہے۔

جو لوگ جان بوجھ کے نادان بن گئےمیرا خیال ہے کہ وہ انسان بن گئے

ہم حشر میں گئےتھے مگر کچھ نہ پوچھئےوہ جان بوجھ کر وہاں انجان بن گئے

ہنستے ہیں ہم کو دیکھ کے ارباب_ آگہیہم آپ کے مزاج کی پہچان بن گئے

منجدھار تک پہنچنا تو ہمّت کی بات تھیساحل کے آس پاس ہی طوفان بن گئے

انسانیت کی بات تو اتنی ہے شیخ جیبد قسمتی سے آپ بھی انسان بن گئے

کانٹے بہت تھے دامن_ فطرت میں اے عدمکچھ پھول اور کچھ میرے ارمان بن گئے

— عبدالحمیدعدم

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں