7 اشعار

دل کے معاملات میں سود و زیاں کی بات

Dil ke maamlaat mein sood-o-ziyan ki baat

دل کے معاملات میں سود و زیاں کی بات

«دل کے معاملات میں سود و زیاں کی بات» عبدالحمیدعدم کا کلام ہے، جسے مرزا جواد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «زندگی ہے دوسروں کے حکم پر مرنے کا جشن (عبدالحمید عدم)» میں 23 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 52 سیکنڈ ہے۔

دل کے معاملات میں سود و زیاں کی باتایسی ہے جیسے موسم گل میں خزاں کی بات

اچھا وہ باغ خلد جہاں رہ چکے ہیں ہم​ہم سے ہی کر رہا ہے تو زاہد وہاں کی بات

زاہد ترا کلام بھی ہے با اثر مگرپیر مغاں کی بات ہے پیر مغاں کی بات

اک زخم تھا کہ وقت کے ہاتھوں سے بھر گیاکیا پوچھتے ہیں آپ کسی مہرباں کی بات

ہر بات زلف یار کی مانند ہے درازجو بات چھیڑتے ہیں ، وہ ہے ، داستاں کی بات

اٹھ کر تری گلی سے کہاں جاییں اب فقیر ؟تیری گلی کے ساتھ ہے اب جسم و جاں کی بات

باتیں ادھر ادھر کی سنا کر جہاں کووہ حذف کر گئے ہیں عدم درمیاں کی بات

— عبدالحمیدعدم

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں