6 اشعار

چلتے ہوئے مجھ میں کہیں ٹھہرا ہوا تو ہے

Chalte hue mujh mein kahin thehra hua to hai

چلتے ہوئے مجھ میں کہیں ٹھہرا ہوا تو ہےرستہ نہیں منزل نہیں اچھا ہوا تو ہے

تعبیر تک آتے ہی تجھے چھونا پڑے گالگتا ہے کہ ہر خواب میں دیکھا ہوا تو ہے

مجھ جسم کی مٹی پہ ترے نقش کف پااور میں بھی بڑا خوش کہ ارے کیا ہوا تو ہے

میں یوں ہی نہیں اپنی حفاظت میں لگا ہوںمجھ میں کہیں لگتا ہے کہ رکھا ہوا تو ہے

وہ نور ہو آنسو ہو کہ خوابوں کی دھنک ہوجو کچھ بھی ان آنکھوں میں اکٹھا ہوا تو ہے

اس گھر میں نہ ہو کر بھی فقط تو ہی رہے گادیوار و در جاں میں سمایا ہوا تو ہے

— ابھیشک شکلا