4 اشعار

اپنی جیسی ہی کسی شکل میں ڈھالیں گے تمہیں

Apni jaisi hi kisi shakl mein dhaalein ge tumhein

اپنی جیسی ہی کسی شکل میں ڈھالیں گے تمہیںہم بگڑ جائیں گے اتنا کی بنا لیں گے تمہیں

جانے کیا کچھ ہو چھپا تم میں محبت کے سواہم تسلی کے لئے پھر سے کھگالیں گے تمہیں

ہم نے سوچا ہے کہ اس بار جنوں کرتے ہوئےخود کو اس طرح سے کھو دیں گے کہ پا لیں گے تمہیں

مجھ میں پیوست ہو تم یوں کہ زمانے والےمیری مٹی سے مرے بعد نکالیں گے تمہیں

— ابھیشک شکلا