8 اشعار

ابھی تو آپ ہی حائل ہے راستا شب کا

Abhi to aap hi hail hai rasta shab ka

ابھی تو آپ ہی حائل ہے راستا شب کاقریب آئے تو دیکھیں گے حوصلہ شب کا

چلی تو آئی تھی کچھ دور ساتھ ساتھ مرےپھر اس کے بعد خدا جانے کیا ہوا شب کا

مرے خیال کے وحشت کدے میں آتے ہیجنوں کی نوک سے پھوٹا ہے آبلہ شب کا

سحر کی پہلی کرن نے اسے بکھیر دیامجھے سمیٹنے آیا تھا جب خدا شب کا

زمیں پہ آ کے ستاروں نے یہ کہا مجھ سےترے قریب سے گزرا ہے قافلہ شب کا

سحر کا لمس مری زندگی بڑھا دیتامگر گراں تھا بہت مجھ پہ کاٹنا شب کا

کبھی کبھی تو یہ وحشت بھی ہم پہ گزری ہےکہ دل کے ساتھ ہی دیکھا ہے ڈوبنا شب کا

چٹخ اٹھی ہے رگ جاں تو یہ خیال آیاکسی کی یاد سے جڑتا ہے سلسلہ شب کا

— ابھیشک شکلا