شاید ابھی ہے راکھ میں کوئی شرار بھی
کلام: ادا جعفری
شاید ابھی ہے راکھ میں کوئی شرار بھیکیوں ورنہ انتظار بھی ہے اضطرار بھی
دھیان آ گیا تھا مرگ دل نامراد کاملنے کو مل گیا ہے سکوں بھی قرار بھی
ہونٹوں پہ کبھی اُن کے میرا نام بھی آئے ( ادا جعفری)
مہمان شاعر: ادا جعفری
شاید ابھی ہے راکھ میں کوئی شرار بھیکیوں ورنہ انتظار بھی ہے اضطرار بھی
دھیان آ گیا تھا مرگ دل نامراد کاملنے کو مل گیا ہے سکوں بھی قرار بھی
آگے حریم غم سے کوئی راستہ نہ تھااچھا ہوا کہ ساتھ کسی کو لیا نہ تھا
دامان چاک چاک گلوں کو بہانہ تھادل کا جو رنگ تھا وہ نظر سے چھپا نہ تھا