6 اشعار

چاک دل بھی کبھی سلتے ہوں گے

Chaak dil bhi kabhi sulte honge

چاک دل بھی کبھی سلتے ہوں گے

«چاک دل بھی کبھی سلتے ہوں گے» ادا جعفری کا کلام ہے، جسے حمایت اللہ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ہونٹوں پہ کبھی اُن کے میرا نام بھی آئے ( ادا جعفری)» میں 12 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 32 سیکنڈ ہے۔

چاک دل بھی کبھی سلتے ہوں گےلوگ بچھڑے ہوئے ملتے ہوں گے

روز و شب کے انہی ویرانوں میںخواب کے پھول تو کھلتے ہوں گے

ناز پرور وہ تبسم سے کہیںسلسلے درد کے ملتے ہوں گے

ہم بھی خوشبو ہیں صبا سے کہیوہم نفس روز نہ ملتے ہوں گے

صبح زنداں میں بھی ہوتی ہوگیپھول مقتل میں بھی کھلتے ہوں گے

اجنبی شہر کی گلیوں میں اداؔدل کہاں لوگ ہی ملتے ہوں گے

— ادا جعفری

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں