وہی ناصبوریِ آرزو ، وہی نقشِ پا، وہی جادہ ہے
کلام: ادا جعفری
وہی ناصبوریِ آرزو ، وہی نقشِ پا ، وہی جادہ ہےکوئی سنگِ رہ کو خبر کرو ، اُسی آستاں کا ارادہ ہے
وہی اشکِ خوں کے گلاب ہیں ، وہی خار خار ہے پیرہننہ کرم کی آس بجھی ابھی ، نہ ستم کی دُھوپ زیادہ ہے