گلوں سی گفتگو کریں قیامتوں کے درمیاں
کلام: ادا جعفری
گلوں سی گفتگو کریں قیامتوں کے درمیاںہم ایسے لوگ اب ملیں حکایتوں کے درمیاں
لہولہان انگلیاں ہیں اور چپ کھڑی ہوں میںگل و سمن کی بے پناہ چاہتوں کے درمیاں
ہونٹوں پہ کبھی اُن کے میرا نام بھی آئے ( ادا جعفری)
مہمان شاعر: ادا جعفری
گلوں سی گفتگو کریں قیامتوں کے درمیاںہم ایسے لوگ اب ملیں حکایتوں کے درمیاں
لہولہان انگلیاں ہیں اور چپ کھڑی ہوں میںگل و سمن کی بے پناہ چاہتوں کے درمیاں
گھر کا رستہ بھی ملا تھا شایدراہ میں سنگ وفا تھا شاید
اس قدر تیز ہوا کے جھونکےشاخ پر پھول کھلا تھا شاید