یہ فخر تو حاصل ہے برے ہیں کہ بھلے ہیں
یہ فخر تو حاصل ہے برے ہیں کہ بھلے ہیںدو چار قدم ہم بھی تیرے ساتھ چلے ہیں
جلنا تو خیر چراغوں کا مقدر ہے ازل سےیہ دل کے کنول ہیں کہ بجھے ہیں نہ جلے ہیں
ہونٹوں پہ کبھی اُن کے میرا نام بھی آئے ( ادا جعفری)
مہمان شاعر: ادا جعفری
یہ فخر تو حاصل ہے برے ہیں کہ بھلے ہیںدو چار قدم ہم بھی تیرے ساتھ چلے ہیں
جلنا تو خیر چراغوں کا مقدر ہے ازل سےیہ دل کے کنول ہیں کہ بجھے ہیں نہ جلے ہیں
خامشی سے ہوئی فغاں سے ہوئیابتدا رنج کی کہاں سے ہوئی
کوئی طائر ادھر نہیں آتاکیسی تقصیر اس مکاں سے ہوئی
اجنبی سبزہ زاروں میںحد نظر تک بنفشہ کے پھول
اجنبی تو نہیں تھے نہ ہیںوہ تو راہ سفر کے اجالے بھی تھے
توفیق سے کب کوئی سروکار چلے ہےدنیا میں فقط طالع بیدار چلے ہے
ٹھہروں تو چٹانوں سی کلیجے پہ کھڑی ہےجاؤں تو مرے ساتھ ہی دیوار چلے ہے
کانٹا سا جو چبھا تھا وہ لو دے گیا ہے کیاگھلتا ہوا لہو میں یہ خورشید سا ہے کیا
پلکوں کے بیچ سارے اجالے سمٹ گئےسایہ نہ ساتھ دے یہ وہی مرحلہ ہے کیا
ذکراُن کا ا بھی ہو بھی نہ بایا ہے زباں سےدل میں یہ اُجالے اُتر آئے ہیں کہاں سے
لوں سانس بھی آہستہ کہ یہ جائے ادب ہےتحریر کروں اسمِ نبی ہدیہء جاں سے
ہر گام سنبھل سنبھل رہی تھییادوں کے بھنور میں چل رہی تھی
سانچے میں خبر کے ڈھل رہی تھیاک خواب کی لو سے جل رہی تھی