اجالا دے چراغ رہ گزر آساں نہیں ہوتا
کلام: ادا جعفری
اجالا دے چراغ رہ گزر آساں نہیں ہوتاہمیشہ ہو ستارا ہم سفر آساں نہیں ہوتا
جو آنکھوں اوٹ ہے چہرہ اسی کو دیکھ کر جینایہ سوچا تھا کہ آساں ہے مگر آساں نہیں ہوتا
ہونٹوں پہ کبھی اُن کے میرا نام بھی آئے ( ادا جعفری)
مہمان شاعر: ادا جعفری
اجالا دے چراغ رہ گزر آساں نہیں ہوتاہمیشہ ہو ستارا ہم سفر آساں نہیں ہوتا
جو آنکھوں اوٹ ہے چہرہ اسی کو دیکھ کر جینایہ سوچا تھا کہ آساں ہے مگر آساں نہیں ہوتا
نگاہ اوٹ رہوں کاسۂ خبر میں رہوںمیں بجھتے بجھتے بھی پیراہن شرر میں رہوں
میں خود ہی روز تمنا میں آپ شام فراقعجب نہیں جو اکیلی بھرے نگر میں رہوں