صبا کو فکر ہے کعبہ نیا بنانے کی
کلام: افقر موہانی
صبا کو فکر ہے کعبہ نیا بنانے کیکہ جمع کرتی ہے خاک ان کے آستانہ کی
فلک کو ضد ہے نشیمن مرا مٹانے کیچمن میں دھن ہے مجھے آشیاں بنانے کی
ان سے میرے نصیب کا چکر بنا دیا افقر موہانی
مہمان شاعر: افقر موہانی
صبا کو فکر ہے کعبہ نیا بنانے کیکہ جمع کرتی ہے خاک ان کے آستانہ کی
فلک کو ضد ہے نشیمن مرا مٹانے کیچمن میں دھن ہے مجھے آشیاں بنانے کی
محشر کا اعتبار ہوا ہے کبھی کبھیبے پردہ حسن یار ہوا ہے کبھی کبھی
رقصاں جمال یار ہوا ہے کبھی کبھیپردہ میں انتشار ہوا ہے کبھی کبھی
اب کیا بتاؤں درد کہاں تھا کہاں نہ تھاپوچھی وہ بات یار نے جس کا گماں نہ تھا
اس سے زیادہ حاصل عمر رواں نہ تھاتیرا نشاں جو پایا تو اپنا نشاں نہ تھا