9 اشعار

حجاب جسم و جاں میں حسن پنہاں دیکھ لیتے ہیں

Hijaab-e-jism-o-jaan mein husn-e-pinhaan dekh lete hain

حجاب جسم و جاں میں حسن پنہاں دیکھ لیتے ہیں

«حجاب جسم و جاں میں حسن پنہاں دیکھ لیتے ہیں» افقر موہانی کا کلام ہے، جسے زاہدحسین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ان سے میرے نصیب کا چکر بنا دیا افقر موہانی» میں 20 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 16 سیکنڈ ہے۔

حجاب جسم و جاں میں حسن پنہاں دیکھ لیتے ہیںنظر والے تمہیں تا حد امکاں دیکھ لیتے ہیں

اسیر زلف ہو کر روئے جاناں دیکھ لیتے ہیںسواد کفر میں بھی نور ایماں دیکھ لیتے ہیں

زمانہ میرا حاصل ہے میں حاصل ہوں زمانہ کاجو اہل بزم ہیں محفل کا ساماں دیکھ لیتے ہیں

ہمارے ڈوبنے کا واقعہ جب یاد آتا ہےجو ساحل پر بھی ہیں ساحل کا داماں دیکھ لیتے ہیں

دل اس پر آرزو آسودہ ہو جاتا ہے دنیا سےکبھی گر منظر گور غریباں دیکھ لیتے ہیں

گزرتے ہیں جناب شیخ جب مے خانہ سے ہو کرنہیں کہتے زباں سے کچھ مگر ہاں دیکھ لیتے ہیں

ترا ہی جلوہ گو دیر و حرم دونوں میں ہے لیکنجو اہل دل ہیں فرق کفر و ایماں دیکھ لیتے ہیں

زمیں سے آسماں سے گو کہیں بجلی گرے لیکناسیران قفس سوئے گلستاں دیکھ لیتے ہیں

پہنچ جاتے ہیں ہم افقرؔ وہاں ذوق طبیعت سےجو شایان ادب بزم سخنداں دیکھ لیتے ہیں

— افقر موہانی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں