خدا ہی جانے کہ ہے یا تہہ مزار نہیں
کلام: افقر موہانی
خدا ہی جانے کہ ہے یا تہہ مزار نہیںوہ بیقرار جسے مر کے بھی قرار نہیں
نگاہ یار مگر اب بھی شرمسار نہیںکہ ایک عرض تمنا پہ لاکھ بار نہیں
ان سے میرے نصیب کا چکر بنا دیا افقر موہانی
مہمان شاعر: افقر موہانی
خدا ہی جانے کہ ہے یا تہہ مزار نہیںوہ بیقرار جسے مر کے بھی قرار نہیں
نگاہ یار مگر اب بھی شرمسار نہیںکہ ایک عرض تمنا پہ لاکھ بار نہیں
حجاب جسم و جاں میں حسن پنہاں دیکھ لیتے ہیںنظر والے تمہیں تا حد امکاں دیکھ لیتے ہیں
اسیر زلف ہو کر روئے جاناں دیکھ لیتے ہیںسواد کفر میں بھی نور ایماں دیکھ لیتے ہیں
میں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےسر آئینہ مرا عکس ہے پس آئینہ کوئی اور ہے
میں کسی کے دست طلب میں ہوں تو کسی کے حرف دعا میں ہوںمیں نصیب ہوں کسی اور کا مجھے مانگتا کوئی اور ہے