اس کی نہیں خدائی کہ اس کا خدا نہیں
کلام: افقر موہانی
اس کی نہیں خدائی کہ اس کا خدا نہیںتم جس کو مل گئے اسے پھر کیا ملا نہیں
سجدہ سے سر اٹھانے کو جی چاہتا نہیںاب یا تو ہم نہیں در دل دار یا نہیں
ان سے میرے نصیب کا چکر بنا دیا افقر موہانی
مہمان شاعر: افقر موہانی
اس کی نہیں خدائی کہ اس کا خدا نہیںتم جس کو مل گئے اسے پھر کیا ملا نہیں
سجدہ سے سر اٹھانے کو جی چاہتا نہیںاب یا تو ہم نہیں در دل دار یا نہیں