9 اشعار

خدا ہی جانے کہ ہے یا تہہ مزار نہیں

Khuda hi jaane ki hai ya teh-e-mazaar nahin

خدا ہی جانے کہ ہے یا تہہ مزار نہیں

«خدا ہی جانے کہ ہے یا تہہ مزار نہیں» افقر موہانی کا کلام ہے، جسے زاہدحسین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ان سے میرے نصیب کا چکر بنا دیا افقر موہانی» میں 20 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 16 سیکنڈ ہے۔

خدا ہی جانے کہ ہے یا تہہ مزار نہیںوہ بیقرار جسے مر کے بھی قرار نہیں

نگاہ یار مگر اب بھی شرمسار نہیںکہ ایک عرض تمنا پہ لاکھ بار نہیں

تجلیوں نے مجھے پہلے کر دیا بے خودجب آیہ ہوش تو دیکھا جمال یار نہیں

نہ پوچھ میرے دل غمزدہ کا حال نہ پوچھیہ وہ چمن ہے جو شرمندۂ بہار نہیں

مٹائے جا مری ہستی مٹائے جا لیکنرہے خیال زمانہ کا اعتبار نہیں

جبین شوق نہ سجدے میں اتنی کر سبقتہر ایک نقش قدم نقش پائے یار نہیں

تمہارے وعدہ کا ہو لاکھ اعتبار مگروہ کیا کرے جسے قسمت پہ اعتبار نہیں

کلیم ہوش میں آؤ ملاؤ نظروں کویہ موقع ہاتھ پھر آنے کا بار بار نہیں

نہیں جو میرے گناہوں کا کچھ حساب افقرؔقسم ہے رحمت حق کا بھی کچھ شمار نہیں

— افقر موہانی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں