10 اشعار

محشر کا اعتبار ہوا ہے کبھی کبھی

Mehshar ka aitbaar hua hai kabhi kabhi

محشر کا اعتبار ہوا ہے کبھی کبھی

«محشر کا اعتبار ہوا ہے کبھی کبھی» افقر موہانی کا کلام ہے، جسے سید جینٹلمین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ان سے میرے نصیب کا چکر بنا دیا افقر موہانی» میں 20 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 17 سیکنڈ ہے۔

محشر کا اعتبار ہوا ہے کبھی کبھیبے پردہ حسن یار ہوا ہے کبھی کبھی

رقصاں جمال یار ہوا ہے کبھی کبھیپردہ میں انتشار ہوا ہے کبھی کبھی

پہنچی ہے خاک عاشق برباد عرش پراونچا اگر غبار ہوا ہے کبھی کبھی

زاہد طواف کرتے ہیں اس آستاں کا ہمکعبہ میں جو شمار ہوا ہے کبھی کبھی

پیماں شکن کے وعدہ کے ہم راہ اے اجلتیرا بھی انتظار ہوا ہے کبھی کبھی

اک سجدہ وہ بھی بے خودیٔ اضطراب میںاس آستاں پہ بار ہوا ہے کبھی کبھی

دامان تنگ و جوش بہاراں کو دیکھ کراندازۂ بہار ہوا ہے کبھی کبھی

وہ خود ہی راز بن گیا دنیا کے واسطےجو اس کا رازدار ہوا ہے کبھی کبھی

جیسے وہ آئے بیٹھے بھی اٹھ کر چلے گئےاس درجہ اعتبار ہوا ہے کبھی کبھی

وحدت پرستیوں سے بھی افقرؔ خدا گواہبرہم مزاج یار ہوا ہے کبھی کبھی

— افقر موہانی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں