11 اشعار

سنی تو اس نے غیروں سے ہوا گو بد گماں ہم سے

Suni to us ne ghairon se hua go bad-gumaan hum se

سنی تو اس نے غیروں سے ہوا گو بد گماں ہم سے

«سنی تو اس نے غیروں سے ہوا گو بد گماں ہم سے» افقر موہانی کا کلام ہے، جسے ایم سعید نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ان سے میرے نصیب کا چکر بنا دیا افقر موہانی» میں 20 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 35 سیکنڈ ہے۔

سنی تو اس نے غیروں سے ہوا گو بد گماں ہم سےبہر صورت رہی بہتر ہماری داستاں ہم سے

زباں پر آئے گی کیا پاس ناموس محبت سےنہیں دہرائی جاتی دل میں اپنی داستاں ہم سے

چنے تھے چار تنکے ایک دن صحن گلستاں میںرہا تا زندگی برہم مزاج باغباں ہم سے

دہائی ہے غم مجبوریٔ امکاں دہائی ہےکہ پھرتی ہیں دم رحلت ہماری پتلیاں ہم سے

سبک سر رہ چکے ہیں ہم بھی دنیا میں کبھی لیکنیہ ذکر اس وقت کا ہے آپ جب تھے سرگراں ہم سے

قفس ہی ہو گیا طول اسیری سے نشیمن جبنہ چھوٹے آشیاں سے ہم نہ چھوٹا آشیاں ہم سے

زمانہ دوسری کروٹ بدلتا بھی تو کیا ہوتابدل جاتی نہ افتاد زمین و آسماں ہم سے

بہار آنے سے پہلے اک پریشاں خواب دیکھا تھاکہ جیسے فصل گل میں چھٹ رہا ہے آشیاں ہم سے

زمانہ سازیاں قرباں مآل اندیشیاں صدقےوہ سننے آج بیٹھے ہیں ہماری داستاں ہم سے

مدد اے لذت ذوق اسیری اب یہ حسرت ہےقفس والے بدل لیتے ہمارا آشیاں ہم سے

تصور میں کھنچا نقشہ ہے ان کے روئے رنگیں کابظاہر پردۂ دل میں ہیں افقرؔ وہ نہاں ہم سے

— افقر موہانی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں