خوشی جانتے ہیں نہ غم جانتے ہیں
کلام: افقر موہانی
خوشی جانتے ہیں نہ غم جانتے ہیںجو ان کی رضا ہو وہ ہم جانتے ہیں
جو کچھ چار تنکوں کو ہم جانتے ہیںوہ گلچین و صیاد کم جانتے ہیں
ان سے میرے نصیب کا چکر بنا دیا افقر موہانی
مہمان شاعر: افقر موہانی
خوشی جانتے ہیں نہ غم جانتے ہیںجو ان کی رضا ہو وہ ہم جانتے ہیں
جو کچھ چار تنکوں کو ہم جانتے ہیںوہ گلچین و صیاد کم جانتے ہیں
خدائی مجھ کو مل جاتی خدائے دو جہاں ملتاجو تم ملتے تو گویا حاصل کون و مکاں ملتا
غلام ساقیٔ کوثر ہوں مے کی کیا کمی مجھ کونہ ملتا گر یہاں ساغر مرا حصہ وہاں ملتا