کچھ عجب یہ بارگاہ عشق کا دستور ہے
کلام: افقر موہانی
کچھ عجب یہ بارگاہ عشق کا دستور ہےجتنا جو مختار ہے اتنا ہی وہ مجبور ہے
موت پر قدرت ہے جینے کا نہیں مقدور ہےتو ہی درد دل بتا اب کیا تجھے منظور ہے
ان سے میرے نصیب کا چکر بنا دیا افقر موہانی
مہمان شاعر: افقر موہانی
کچھ عجب یہ بارگاہ عشق کا دستور ہےجتنا جو مختار ہے اتنا ہی وہ مجبور ہے
موت پر قدرت ہے جینے کا نہیں مقدور ہےتو ہی درد دل بتا اب کیا تجھے منظور ہے
مکاں چھوڑ کر لا مکاں دیکھتے ہیںکہاں وہ ہیں اور ہم کہاں دیکھتے ہیں
تعین کا ہر آستاں دیکھتے ہیںجہاں تم نہیں ہم وہاں دیکھتے ہیں
اجل نے لوٹ لیا آ کے کاروان حیاتسنا رہا ہوں زمانہ کو داستان حیات
ہزاروں کروٹیں بدلیں زمانہ نے لیکناٹھے نہ خواب تغافل سے خفتگان حیات