شوق دل حسرت دیدار سے آگے نہ بڑھا
کلام: افقر موہانی
شوق دل حسرت دیدار سے آگے نہ بڑھامیں کبھی جلوہ گہہ یار سے آگے نہ بڑھا
محرم راز حقیقت اسے سمجھیں کیونکرعشق میں جو رسن و دار سے آگے نہ بڑھا
ان سے میرے نصیب کا چکر بنا دیا افقر موہانی
مہمان شاعر: افقر موہانی
شوق دل حسرت دیدار سے آگے نہ بڑھامیں کبھی جلوہ گہہ یار سے آگے نہ بڑھا
محرم راز حقیقت اسے سمجھیں کیونکرعشق میں جو رسن و دار سے آگے نہ بڑھا
محبت میں خرد کی رہبری دیکھی نہیں جاتییہ توہین مذاق عاشقی دیکھی نہیں جاتی
ہر اک تصویر کی جلوہ گری دیکھی نہیں جاتیوہ صورت دیکھ کر پھر دوسری دیکھی نہیں جاتی