شراب پی کے بھی مست شراب ہو نہ سکا
کلام: افقر موہانی
شراب پی کے بھی مست شراب ہو نہ سکاترا خراب محبت خراب ہو نہ سکا
اسی پہ ختم ہیں ناکامیاں زمانہ کیتری جناب میں جو کامیاب ہو نہ سکا
ان سے میرے نصیب کا چکر بنا دیا افقر موہانی
مہمان شاعر: افقر موہانی
شراب پی کے بھی مست شراب ہو نہ سکاترا خراب محبت خراب ہو نہ سکا
اسی پہ ختم ہیں ناکامیاں زمانہ کیتری جناب میں جو کامیاب ہو نہ سکا
ضو فشاں سینہ میں سوز غم پنہاں نکلادل کا ہر داغ چراغ تہ داماں نکلا
کوئی بھی جب نہ انیس شب ہجراں نکلادرد دل خود ہی مرے حال کا پرساں نکلا