شیشہ میں ہے شراب تو شیشہ شراب میں
کلام: افقر موہانی
شیشہ میں ہے شراب تو شیشہ شراب میںیعنی ہے آفتاب حد آفتاب میں
سرزد ہوئے گناہ جو عہد شباب میںمالک مرے انہیں تو نہ رکھنا حساب میں
ان سے میرے نصیب کا چکر بنا دیا افقر موہانی
مہمان شاعر: افقر موہانی
شیشہ میں ہے شراب تو شیشہ شراب میںیعنی ہے آفتاب حد آفتاب میں
سرزد ہوئے گناہ جو عہد شباب میںمالک مرے انہیں تو نہ رکھنا حساب میں
سامنے اس بت کے جب جانا پڑاکفر پر ایماں مجھے لانا پڑا
بہر درماں ان کو جب آنا پڑادرد دل کو اور بڑھ جانا پڑا