سپیکرز
راجا اکرام قمر کا پیش کردہ کلام
شیشہ میں ہے شراب تو شیشہ شراب میں
شیشہ میں ہے شراب تو شیشہ شراب میں یعنی ہے آفتاب حد آفتاب میں سرزد ہوئے گناہ جو عہد شباب میں مالک مرے انہیں تو نہ رکھنا حساب میں عالم یہی رہا تو نگاہوں کا ذکر کیا نیت بھی ڈوب جائے گی جام شراب میں اے برق کیا ہمیں کو مٹانا چمن میں تھا تھا اور آشیاں نہ کوئی انتخاب میں افقرؔ یہ سب ہیں ان کے تبسم کی شوخیاں رنگینیاں جو بن گئیں موج شراب میں
سامنے اس بت کے جب جانا پڑا
سامنے اس بت کے جب جانا پڑا کفر پر ایماں مجھے لانا پڑا بہر درماں ان کو جب آنا پڑا درد دل کو اور بڑھ جانا پڑا پھر بھی کب سمجھا فریب حسن کو دل کو لاکھوں بار سمجھانا پڑا جیتے جی دیدار جاناں تھا محال زندگی میں مجھ کو مر جانا پڑا کوئے جاناں کوچۂ جاناں تھا پھر جنت واعظ کو ٹھکرانا پڑا ہو چکا نذرانہ جب دل حسن کا پھر جگر کو سامنے لانا پڑا زندگی میں جب نہ افقرؔ آئے وہ زندگی کو موت بن جانا پڑا