شب فراق ہمارا وہ نیم جاں ہونا
کلام: افقر موہانی
شب فراق ہمارا وہ نیم جاں ہونااجل کا آپ ہی گھر میں وہ مہماں ہونا
خفا نہ سن کے مرا حال مہرباں ہوناکہ اس بیان کو اک دن ہے داستاں ہونا
ان سے میرے نصیب کا چکر بنا دیا افقر موہانی
مہمان شاعر: افقر موہانی
شب فراق ہمارا وہ نیم جاں ہونااجل کا آپ ہی گھر میں وہ مہماں ہونا
خفا نہ سن کے مرا حال مہرباں ہوناکہ اس بیان کو اک دن ہے داستاں ہونا
سنی تو اس نے غیروں سے ہوا گو بد گماں ہم سےبہر صورت رہی بہتر ہماری داستاں ہم سے
زباں پر آئے گی کیا پاس ناموس محبت سےنہیں دہرائی جاتی دل میں اپنی داستاں ہم سے