7 اشعار

آخرش اس بحر کی تہ میں اتر جانے کے دن

Aakhirash is bahr ki teh mein utar jaane ke din

آخرش اس بحر کی تہ میں اتر جانے کے دنزندہ رہنے کی تمنا اور مر جانے کے دن

انگلیوں پر گنتے رہتے تھے کب آئے گی بہاراور بہار آئی تو آ پہنچے بکھر جانے کے دن

ایک وہ راتیں کہ پرچھائیں سے خوف آتا نہ تھاایک یہ دن اپنے ہی سائے سے ڈر جانے کے دن

روز رخصت ہے ہمارا یہ کہ روز واقعہدل نے سامان سفر باندھا ہے گھر جانے کے دن

اندر اندر کیسے موسم چل رہے ہیں الاماںیہ جھلس جانے کی راتیں یہ ٹھٹھر جانے کے دن

وقت کا چکر بھی ہے کچھ ذہن کا الجھاؤ بھیہوں رواں کس سمت کو اور ہیں کدھر جانے کے دن

دل کی دھڑکن تیز ہوتی جا رہی ہے آفتابؔہو نہ ہو اپنے بھی ہیں اب کوچ کر جانے کے دن

— آفتاب حسین