4 اشعار

یوں تو اس شہر میں ایک اک سے سوا عورت ہے

Yun to is shehar mein ek ek se siwa aurat hai

یوں تو اس شہر میں ایک اک سے سوا عورت ہےدل میں گھر کرکے جو بیٹھی ہے بلٰی عورت ہے

زندہ رہنے کی کشش زندگی کرنے کی لگناور تو کیا ہے یہی موت ہے یا عورت ہے

سات پردوں میں بھی مستور نہیں ہے لیکنکبھی کھلتی بھی نہیں ہے کہ وہ کیا عورت ہے

شاعری سے ہمیں کچھ کام چلائے ہوئے ہیںیہ عفیفہ تو وگرنہ یوںہی نا عورت ہے

— آفتاب حسین