5 اشعار

اگر تری آنکھ کے اشارہ نہیں رہیں گے

Agar teri aankh ke ishaare nahin rahen ge

اگر تری آنکھ کے اشارہ نہیں رہیں گےفلک پہ یہ نیل گوں ستارے نہیں رہیں گے

کہیں کسی گھاٹ تو لگے گی یہ دل کی کشتیکہ عمر بھر ہم بھی مارے مارے نہیں رہیں گے

یہ چار دن ہیں جو آج کل عافیت کے دن ہیںاٹھا جو طوفان تو کنارے نہیں رہیں گے

یہ حسن جو کچھ ہے دیکھنے والی آنکھ تک ہےنگاہ بدلی تو یہ نظارے نہیں رہیں گے

تو کیا اجل سب حسین منظر اجاڑ دے گییہ پھول چہرے یہ ماہ پارے نہیں رہیں گے

— آفتاب حسین