7 اشعار

آتے ہیں اور تصویر ہو جاتے ہیں خواب

Aate hain aur tasveer ho jaate hain khwab

آتے ہیں اور تصویر ہو جاتے ہیں خوابخوابوں میں ہی تعبیر ہو جاتے ہیں خواب

کھلتے ہیں آنکھوں میں گلابوں کی طرحاور دل میں جا کر تیر ہو جاتے ہیں خواب

اس خواب کو آنکھوں میں ہی ڈھانپے رکھوکھلنے سے بے توقیر ہو جاتے ہیں خواب

زنجیر کرتا ہے کوئی منظر مجھےپھر دفعتاً زنجیر ہو جاتے ہیں خواب

اس راہ پر دنیا کی اس شہراہ پرہم سے کئی دلگیر ہو جاتے ہیں خواب

چلتا ہوں لیکن نیند کے نرغے میں ہوںلکھتا نہیں تحریر ہو جاتے ہیں خواب

کھلتی ہیں جب آنکھیں تو دکھتا کچھ نہیںسب آفتاب اور میرؔ ہو جاتے ہیں خواب

— آفتاب حسین