5 اشعار

وجود کا انحصار گو خاک پر نہیں تھا

Wajood ka inhisaar go khaak par nahin tha

وجود کا انحصار گو خاک پر نہیں تھامگر میں اپنی زمیں سے بے خبر نہیں تھا

عجب طرح کا طلسم تھا اس مفارقت میںبدن لرزتا تھا اور آنکھوں میں ڈر نہیں تھا

لہو سے میں نے دیے کی لو سرفراز رکھیوہاں جہاں پر ہواؤں کا بھی گزر نہیں تھا

مگر بہت دیر بعد جا کر خبر ہوئی تھیوہ میرے ہم راہ تھا مرا ہم سفر نہیں تھا

سو میں نے آخر لرزتا پتا ہدف بنایاکہ وہ پرندہ تو آج بھی شاخ پر نہیں تھا

— آفتاب حسین