8 اشعار

مرنے والوں کی ہے یہاں بھرمار

Marne walon ki hai yahan bharmaar

مرنے والوں کی ہے یہاں بھرمارجا کے اب اور ہی کہیں سر مار

پھول ہی مانگنے کو آیا تھامار ڈالا ہے جس کو پتھر مار

ہم تری راہ میں پڑے ہوئے ہیںتو بھی آ اور آ کے ٹھوکر مار

دل کہ باہر ہوا ہے آپے سےلا کے اس بے حیا کو اندر مار

دیکھ اب قینچیاں فضاؤں میں ہیںکہا تھا کس نے اس قدر پر مار

اور کس کام کی رہی ہے یہ شےتیشۂ زندگی کو سر پر مار

ڈھیٹ ہیں اور ڈٹے ہوئے ہیں ہمپڑ رہی ہے ہمیں برابر مار

پیار کی بھیکھ آفتاب حسینؔجا کے اس آدمی کے منہ پر مار

— آفتاب حسین