9 اشعار

اب تو یوں خواب کے رستوں پہ قدم رکھتا ہوں

Ab to yoon khwaab ke raston pe qadam rakhta hoon

اب تو یوں خواب کے رستوں پہ قدم رکھتا ہوںجس طرح اپنی ہی آنکھوں پہ قدم رکھتا ہوں

دیکھتا ہوں تو دہکتے ہوئے انگارے ہیںاور چلتا ہوں تو پھولوں پہ قدم رکھتا ہوں

نشہ ایسا ہے کہ ہے لغزش پا آنکھوں میںلڑکھڑاتا ہوں تو شیشوں پہ قدم رکھتا ہوں

اندر اندر ہی کوئی راہ نکلتی ہوئی ہےیہ جو میں اپنے ہی قدموں پہ قدم رکھتا ہوں

تھرتھرا اٹھتی ہے پانی کی طرح دل کی زمیںیاد کے ڈولتے رسوں پہ قدم رکھتا ہوں

دل میں چلتی ہے کسی گزرے زمانے کی ہواراکھ ہوتی ہوئی یادوں پہ قدم رکھتا ہوں

مجھ میں رہ رہ کے ابھرتی ہے چٹخنے کی صداجیسے ٹوٹی ہوئی قبروں پہ قدم رکھتا ہوں

ہاتھ آئے بھی تو کیا کار کشائی کا سرامیں کہ خود اپنے ارادوں پہ قدم رکھتا ہوں

قافیہ تنگ کیے رہتا ہوں دن رات اپناکس قدر سخت زمینوں پہ قدم رکھتا ہوں

— آفتاب حسین