6 اشعار

جینے والا ہوں نہ مرنے والا

Jeene wala hoon na marne wala

جینے والا ہوں نہ مرنے والااب میں کچھ بھی نہیں کرنے والا

دل میں اک راہ بچھی رہتی ہےہے کوئی مجھ سے گزرنے والا

کہاں ڈوبا تھا محبت میں مگرہوں کہاں جا کے ابھرنے والا

عشق تھا اور نہیں ہو پایااور یہی کام تھا کرنے والا

اندر اندر ہے لگائے ہوئے لاممجھ میں اک مارنے مرنے والا

میرے بستر پہ پڑا تھا آخردل پہ بھی پاؤں نہ دھرنے والا

— آفتاب حسین